نئی ویب سائٹ بنانے کے بعد اکثر لوگ بس وزیٹرز کی تعداد دیکھتے رہتے ہیں۔ مگر تعداد اکیلی کچھ نہیں بتاتی: سو وزیٹر آئیں اور کوئی آرڈر نہ دے تو مسئلہ کہیں اور ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ شروعات کے لیے مفت ٹولز کافی ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ آپ پہلے سے طے کر لیں کہ آپ کے لیے کامیابی کا مطلب کیا ہے۔
نئی سائٹ پر پہلے تین چیزیں ناپیں: لوگ کہاں سے آئے، کون سے صفحے دیکھے، اور کتنوں نے آرڈر یا رابطہ کیا۔ باقی ڈیش بورڈز بعد میں دیکھ لیں۔
پہلے ہدف طے کریں
اپنے کاروبار کے لحاظ سے ایک یا دو ہدف لکھ لیں۔ آن لائن اسٹور کے لیے آرڈر مکمل ہونا، سروس کے لیے واٹس ایپ بٹن یا فون پر کلک، اور کسی تنظیم کے لیے فارم جمع ہونا۔
ہدف طے ہو تو ہر نمبر کا مطلب واضح ہوتا ہے، ورنہ گراف صرف سجاوٹ بن جاتے ہیں۔
دو مفت ٹولز لگائیں
گوگل اینالیٹکس بتاتا ہے کہ وزیٹر سائٹ کے اندر کیا کرتے ہیں، اور سرچ کنسول بتاتا ہے کہ گوگل میں کن الفاظ پر آپ کی سائٹ نظر آئی۔ دونوں کو اپنی سائٹ سے جوڑنا ایک بار کا کام ہے۔
Uttra میں چیٹ پر لکھیں: سائٹ میں گوگل اینالیٹکس کا ٹریکنگ کوڈ لگاؤ اور واٹس ایپ بٹن کے کلک کو ایونٹ کے طور پر ریکارڈ کرو۔ پھر پبلش کریں اور اپنے فون سے سائٹ کھول کر دیکھیں کہ ریئل ٹائم رپورٹ میں آپ کی وزٹ نظر آ رہی ہے۔
ہر ہفتے صرف یہ نمبر دیکھیں
پہلے مہینوں میں مختصر فہرست کافی ہے:
- ٹریفک کے ذرائع: گوگل، فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ یا براہ راست۔
- سب سے زیادہ دیکھے جانے والے صفحات اور وہ صفحے جہاں لوگ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
- موبائل اور کمپیوٹر کا تناسب، کیونکہ پاکستان میں زیادہ تر وزیٹر موبائل سے آتے ہیں۔
- ہدف مکمل کرنے والوں کی تعداد۔
نمبروں سے فیصلہ کریں
اگر موبائل وزیٹر زیادہ ہیں اور کنورژن کم ہے تو موبائل پر فارم، بٹن اور رفتار چیک کریں۔ اگر فیس بک سے لوگ آتے ہیں مگر پہلے صفحے سے چلے جاتے ہیں تو اشتہار اور صفحے کا پیغام ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتا۔
ایک وقت میں ایک تبدیلی کریں اور دو ہفتے انتظار کریں، تبھی پتا چلے گا کہ کس چیز سے فرق پڑا۔ کوئی بھی نتیجہ نکالنے کے لیے کافی وزیٹر چاہییں، چند دنوں کے اتار چڑھاؤ پر گھبرانا نہیں چاہیے۔