لینڈنگ پیج کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے: اشتہار یا پوسٹ سے آنے والا شخص ایک کام کرے، چاہے آپ کو واٹس ایپ کرے، بکنگ کرائے یا اپنی معلومات دے۔ جو چیز اس کام سے توجہ ہٹائے وہ فالتو ہے۔
Uttra سے آپ اسے چند منٹ میں شائع کر سکتے ہیں۔ ذیل میں مرحلے اور تیاری کی وہ باتیں ہیں جن سے پہلی ہی بار میں بہتر نتیجہ آتا ہے۔
اچھے لینڈنگ پیج کو واضح ہیڈلائن، ٹھوس آفر، ثبوت اور ایک فارم چاہیے۔ اگر یہ سب چیٹ کھولنے سے پہلے لکھا ہو تو دس منٹ میں شائع کرنا حقیقت پسندانہ ہے۔ وقت تیاری بچاتی ہے، جلدی نہیں۔
منٹ 1 سے 3: چار متن تیار کریں
چیٹ کھولنے سے پہلے نوٹ پیڈ میں بنیادی باتیں لکھ لیں۔ بعد میں سب سے زیادہ وقت یہی بچاتا ہے۔
- ہیڈلائن: گاہک کو کیا ملے گا، ایک جملے میں، آسان زبان میں۔
- آفر: کیا ملے گا، کتنے میں یا کن شرائط پر، اور اگر واقعی مدت ہو تو کب تک۔
- ثبوت: کسی اصل گاہک کی رائے، قابلِ ثبوت عدد یا کلائنٹس کے لوگو۔
- عمل: ایک ہی بٹن، جیسے بکنگ کریں، کوٹیشن لیں یا واٹس ایپ کریں۔
منٹ 3 سے 6: پرامپٹ لکھیں
اپنے متن پیسٹ کریں اور ڈھانچہ مانگیں۔ ہدف گاہک اور مطلوبہ عمل جتنا واضح ہوگا، نتیجہ اتنا بہتر ہوگا۔ مثال:
- لاہور کے ایک ٹیوشن سینٹر کے لیے لینڈنگ پیج بناؤ۔ ہیڈلائن: میٹرک کے امتحان میں بہتر نمبر، تین ماہ میں۔ تین فوائد، والدین کی آراء، ٹرائل کلاس کی فیس، عام سوالات اور ایک فارم جس میں نام، فون نمبر اور مناسب وقت ہو۔ واٹس ایپ کا تیرتا بٹن ہو۔ نرم رنگ، صاف اردو فونٹ، اور موبائل کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن۔
منٹ 6 سے 8: پریویو میں جانچیں
پریویو موبائل اور کمپیوٹر دونوں پر کھولیں۔ صرف ہیڈلائن پڑھیں اور دیکھیں کہ بات سمجھ آتی ہے یا نہیں۔ پھر دیکھیں کہ مرکزی بٹن اسکرول کیے بغیر نظر آتا ہے۔
فارم خود بھر کر بھیجیں اور دیکھیں کہ معلومات آپ تک پہنچتی ہیں۔ یہ سب سے عام اور سب سے مہنگی غلطی ہے۔
- ایک صفحہ، ایک مقصد: وہ مینو اور لنک ہٹا دیں جو وزیٹر کو باہر لے جائیں۔
- اپنے کاروبار کی اصل تصاویر عام تصاویر سے بہتر ہیں۔
- متن پڑھنے کے قابل ہو، رنگوں میں فرق واضح ہو اور موبائل پر سائز آرام دہ ہو۔
منٹ 8 سے 10: شائع کریں اور ناپیں
Uttra کے سب ڈومین یا اپنے ڈومین پر شائع کریں اور لنک کسی دوسرے فون پر آزمائیں۔ اگر ذاتی معلومات لیتے ہیں تو فارم کے ساتھ واضح لکھیں کہ ان کا استعمال کس لیے ہوگا۔
ہر اشتہار یا پوسٹ کے لیے الگ لنک رکھیں اور دیکھیں کہ کس سے زیادہ رابطے آتے ہیں۔ اسی سے فیصلہ ہوگا کہ بجٹ کہاں لگانا ہے۔